معرفۃ الضاد
| نام کتاب: | معرفۃ الضاد |
| نام مصنف: | مولانا عبد الواحد خلیلی |
| صفحات: | 72 |
| آن لائن تقسیم کار: | صراط پبلیکیشنز، بھوج پور مرادآباد، یوپی |
کیا ہے اس رسالے میں؟
حرف ضاد صوتی طور پر ظاء کے مشابہ ہے یا دال کے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ آپ کو اس طرح کے افراد بھی مل جائیں گے جو اس کو مشابہ ظاء ادا کرتے ہیں اور ایسے افراد بھی مل جائیں گے جو اس کو مشابہ دال ادا کرتے ہیں۔ اور دونوں کے پاس کچھ نہ کچھ ایسے نکات ہیں جن کو بنیاد بناکر ان میں سے ہر طبقہ اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن درست کیا ہے؟یہ رسالہ اسی سوال کا جواب ہے۔
اس رسالے میں حضرت مولانا قاری عبد الواحد صاحب قبلہ نے پچیس سے زائد معتبر و مستند کتب کے حوالہ جات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اگرچہ ضاد، ظاء اور دال تینوں الگ الگ حروف ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کی جگہ پڑھنا ترتیل کی رعایت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ اس طرح ضاد کی جگہ نہ ظاء پڑھا جا سکتا ہے اور نہ دال، لیکن پھر بھی ضاد کی مشابہت ظاء کے ساتھ ہے۔ ضاد ظاء کے ساتھ نہ صرف صوتی طور پر مشابہت رکھتا ہے بلکہ مخرج اور استطالت کے علاوہ جملہ صفات میں بھی اس کے ساتھ اشتراک رکھتا ہے۔ دوسری طرف ضاد دال کے ساتھ نہ تو صوتی طور پر مشابہ ہے اور جہر اور اصمات کے علاوہ باقی کسی صفت میں دال کے ساتھ اشتراک نہیں رکھتا۔ اور مخرج میں تو جدا ہے ہی۔
المیہ یہ ہے کہ عوام وخواص میں ایسے افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے جو ضاد کو مشابہ دال ادا کرتی ہے۔ اور وہ اس ادائیگی سے مطمئن بھی ہے۔ اس رسالے کا مطالعہ آپ پر اس حقیقت کو ظاہر کرے گا کہ تفسیر، فقہ وفتوی اور تجوید و قراءت کے ائمہ کبار اور اجلہ شیوخ میں سے کسی نے بھی اس کو مشابہ دال نہیں مانا۔ بلکہ ان میں سے متعدد نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر کسی نے ضاد کو مشابہ دال ادا کیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ دوسری طرف اگر کسی نے ضاد کی جگہ ظاء ادا کردیا اور وہ عوام میں سے ہے تو بعض علماء نے اس بنیاد پر کہ ان دونوں حرفوں کے درمیان فرق کرنا نہایت مشکل کام ہے، رخصت دی ہے۔ پھر بھی خواص کے لیے رخصت نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں حروف ایک دوسرے کے مشابہ ضرور ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے عین ہی ہیں۔ اسی لیے خواص پر ضروری ہے کہ وہ دونوں کے مخارج وصفات کو جدا جدا پہچان کر اس طرح ادا کریں جیسےان کو ادا کرنے کا حکم ہے۔
اللہ ربّ العزت اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں اس کتاب کو درج بالا مغالطے کے ازالے کا سبب بنائے اور امت مسلمہ کو قرآن کریم کو اپنے فرمان وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا کے مطابق ترتیل کی رعایت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف کی اس کاوش کو مقبول عوام وخواص بنائے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں