اشاعتیں

اپریل, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

انڈے کی کریٹ اور حامد

تصویر
از قلم : سرفراز احمد عطاری مصباحی حامد اور محمود بہت اچھے بچے ہیں اور سچے دوست بھی، ان کا اسکول آنا جانا ہمیشہ ایک ساتھ ہی ہوتا ہے ، یہاں تک کہ پڑھنا لکھنا بھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ دونوں محنتی اور باادب اور اخلاق مند ہیں، اسی وجہ سے اسکول کے تمام اساتذہ کو محبوب اور ہر طالب علم کے عزیز بھی۔ ہرکام وقت پر اور سلیقہ سے کرنا ان کے اندر خاص بات ہے،  روزمرہ کے معمولات کے ساتھ زندگی کا گزر بسر جاری تھا اچانک حامد کے والد جامی خان کی طبیعت خراب ہوگئی حتی کہ ان کو اسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑا، کافی دن بستر علالت پر گزر گئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ اخراجات کے مسائل ہوگئے، حامد سے دیکھا نہ جاتا مگر والد صاحب کی مسلسل علالت اس کی پڑھائی میں رکاوٹ نہ بنی، لیکن جب دوائی وغیرہ کی وجہ سے اخراجات مزید بڑھ گئے تو اب حامد نے پڑھائی کے ساتھ کچھ کام کرنے کا فیصلہ کیا، یہ اس کے لیے ایک غیر معمولی اقدام تھا، جس کے بارے میں اس نے اس سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا، طریقہ اس نے یہ اپنایا کہ تھوک کی دکان سے انڈے کی کیریٹ خریدتا اور فٹکر دکان داروں کو بیچ دیتا ، یوں اس نے پڑھائی بھی جار...

معرفۃ الضاد

تصویر
نام کتاب: معرفۃ الضاد نام مصنف: مولانا عبد الواحد خلیلی صفحات: 72 آن لائن تقسیم کار: صراط پبلیکیشنز، بھوج پور مرادآباد، یوپی کیا ہے اس رسالے میں؟ حرف ضاد صوتی طور پر ظاء کے مشابہ ہے یا دال کے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ آپ کو اس طرح کے افراد بھی مل جائیں گے جو اس کو مشابہ ظاء ادا کرتے ہیں اور ایسے افراد بھی مل جائیں گے جو اس کو مشابہ دال ادا کرتے ہیں۔ اور دونوں کے پاس کچھ نہ کچھ ایسے نکات ہیں جن کو بنیاد بناکر ان میں سے ہر طبقہ اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن درست کیا ہے؟یہ رسالہ اسی سوال کا جواب ہے۔ اس رسالے میں حضرت مولانا قاری عبد الواحد صاحب قبلہ نے پچیس سے زائد معتبر و مستند کتب کے حوالہ جات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اگرچہ ضاد، ظاء اور دال تینوں الگ الگ حروف ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کی جگہ پڑھنا ترتیل کی رعایت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ اس طرح ضاد کی جگہ نہ ظاء پڑھا جا سکتا ہے اور نہ دال، لیکن پھر بھی ضاد کی مشابہت ظاء کے ساتھ...

جب ‏نحو ‏آپ ‏کو الجھا دے‏

تصویر
نحوی اصطلاحات کے حل اور علم نحو میں بصیرت پیدا کرنے والی انمول معلومات پر مشتمل بے مثل کتاب یہاں امیزن سے ‏خریدیں ‏ ڈائریکٹ خریدنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں: 9927187748 استاذ الاساتذہ، خیر الاذکیا حضرت علامہ و مولانا محمد احمد مصباحی سابق صدر المدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی رائے یہ کتاب عزیز القدر مولانا سرفراز احمد مصباحی استاذ جامعۃ المدینہ نیپال گنج کی کاوشِ فکر و قلم ہے۔ یہ چند قسموں پر منقسم ہے: (1)کلمات و اصطلاحات کی استعمالی صورتیں (2) مثالوں میں دی گئی عبارات کی نحوی تراکیب (3) فروق نحویہ (4) ترکیبی شبہات کا ازالہ (5) کیا کہیں اور کیا نہ کہیں (6) نحوی پہیلیاں (7) صرفی پہیلیاں۔ میں نے محسوس کیا ہے اس میں جو مسائل دیے گیے ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جن کی صراحت ہماری درسی کتاب : نحومیر، ہدایۃ النحو، شرح مائۃ عامل، کافیہ اور شرح جامی وغیرہ میں نہیں ملتی، خصوصاً اس کتاب کی ترتیب کے ساتھ تو ان کا ذکر یقیناً نہیں۔میں نے اس کتاب کی بہت ہی بحثوں کو پڑھا ہے ۔ عزیز موصوف کا علمی شغف اور ذوق مطالعہ قابل تحسین ہے کہ انھوں نے درسی کتب اور ان کی شروح و حواشی سے آگے ...

امام کو کس نے مارا؟

تصویر
Buy On Amazon Here یہاں سے موبائل یا کمپیوٹر پر پڑھیں ‏ کسی سوال یا ڈائریکٹ خریدنے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ ، یا میسیج یا کال کریں:  9927187748 یہ پوسٹ دوسروں تک پہنچائیں اس کتاب میں کیا ہے؟ یہ ایک سچائی ہے کہ امت کی باگ ڈور اب علماء، مفتیان کرام اور اماموں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ عوام کے ہاتھ میں آگئی ہے۔علماء اور ائمہ بس ایک کٹھ پتلی کی مانند ہوکر رہ گئے ہیں، عوام ان کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ امام اور علماء ایک خاموش ظلم کا شکار ہورہے ہیں ان کی اجرت مزدوروں سے بھی کم کردی گئی ہے۔ ان کی مظلومیت کے پہلو ان گنت ہیں۔ کیا ایسے حالات میں امید ہے کہ امت پسماندگی کے دور سے نکل پائے گی؟ کیا کوئی راستہ ہے اس بھنور سے باہر نکلنے کا؟ یہ کتاب مساجد کے اماموں اور مدرسوں کے مدرسین اور علماء پر خاموش ظلم کی داستاں اور اس کے خفیہ گوشوں کو اجاگر کرتی ایک آنکھیں کھولنے والی تحریر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کتاب ظلم کی اس بھنور سے نکلنے کے حل اور راستوں سے بھی بحث کرتی ہے۔ فہرست مجبوروں کی تلاش ایک غلام جس کی مارکیٹ میں بولی لگتی ہے ہم جان...