امام کو کس نے مارا؟
کسی سوال یا ڈائریکٹ خریدنے کے لیے اس نمبر پر واٹس ایپ ، یا میسیج یا کال کریں:
9927187748
اس کتاب میں کیا ہے؟
یہ ایک سچائی ہے کہ امت کی باگ ڈور اب علماء، مفتیان کرام اور اماموں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ عوام کے ہاتھ میں آگئی ہے۔علماء اور ائمہ بس ایک کٹھ پتلی کی مانند ہوکر رہ گئے ہیں، عوام ان کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ امام اور علماء ایک خاموش ظلم کا شکار ہورہے ہیں ان کی اجرت مزدوروں سے بھی کم کردی گئی ہے۔ ان کی مظلومیت کے پہلو ان گنت ہیں۔ کیا ایسے حالات میں امید ہے کہ امت پسماندگی کے دور سے نکل پائے گی؟ کیا کوئی راستہ ہے اس بھنور سے باہر نکلنے کا؟
یہ کتاب مساجد کے اماموں اور مدرسوں کے مدرسین اور علماء پر خاموش ظلم کی داستاں اور اس کے خفیہ گوشوں کو اجاگر کرتی ایک آنکھیں کھولنے والی تحریر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کتاب ظلم کی اس بھنور سے نکلنے کے حل اور راستوں سے بھی بحث کرتی ہے۔
فہرست
- مجبوروں کی تلاش
- ایک غلام جس کی مارکیٹ میں بولی لگتی ہے
- ہم جانتے ہیں وہ مجبور ہے
- بازار میں کچھ تو انصاف ہے
- اسلام کی عظیم سوچ
- تباہی جوچھ ہزار نے مچائی
- چھ ہزار میں بھی وفا نہ کی
- اس سے پہلے کہ وہ قانون کی پناہ لیں
- امام اور علما : کون ہیں یہ لوگ؟
- امام مقتدیوں کی عدالت میں
- علما نے خود کو کیوں نہیں بدلا؟
- ایک جان ہزار ذمے داریاں
- امام یا عالم دین کو تنخواہ نہیں لینی چاہیے؟
- تنخواہ لینے والے کو ثواب نہیں ملتا؟
- مفتیان کرام مزدوروں کی صف میں
- کون ہےچھ ہزار کے پیچھے؟
- ہوا کی کشتی اور بارش کی کھیتی
- مآخذ و مراجع
آپ اس کتاب کا خود بھی مطالعہ کریں اور دوسروں
کو بھی اس کے مطالعے کا مشورہ دے کر اماموں اور مدرسین پر خاموش ظلم کے خلاف اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔ کسی بھی ظلم کے خلاف جنگ میں کامیاب ہونے کے لیے مظلوم اور ظلم کرنے والے دونوں کو اس بات کا شعور ہو جانا ضروری ہے کہ ایک مظلوم ہے اور دوسرا ظلم کر رہا ہے۔ بد قسمتی سے اماموں اور مدرسین کے معاملے میں نہ مظلوم کو ظلم کے خفیہ گوشوں کا پورا شعور ہے اور ظلم کرنے والا معاشرہ بھی بے شعوری اور غفلت میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کتاب کا مقصد مظلوم وظالم دونوں میں اس خاموش ظلم کے خفیہ گوشوں کا شعور پیدا کرنا اور پھر اس کے سد باب کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے:
- مدرسین مدرسے میں اپنی تدریس کی ذمے داری کو شروع کرتے وقت مدرسے کے ارباب حل وعقد کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے موقف کو مضبوط اور مؤثر انداز میں رکھنے کے قابل ہوں گے۔
- مسجدوں کے ائمہ کرام بھی اپنی امامت کے فریضے کی ادائیگی کے آغاز میں مسجدوں کے ذمے داران کے سامنے اپنے موقف کو ایک کامیاب اور مؤثر انداز میں رکھ سکیں گے۔
- اس کتاب کا مطالعہ طلبہ کے اندر اس بات کی صلاحیت پیدا کرے گا کہ وہ اپنے مستقبل کی عمارت مضبوط بنیادوں پر کھڑی کرسکیں۔ وہ عوام کی موجودہ ذہنیت کو سمجھ پائیں گے اور دین کی خدمت کے حوالے سے بہترین منصوبہ بندی کرسکیں گے۔
- اس کتاب کے مطالعے سے عوام اس بات کو جان پائیں گے کہ ان کو شعور بھی نہیں ہے کہ وہ نہ صرف علماء، مدرسین اور اماموں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کر ہے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے بھرتے چلے جارہے ہیں۔ وہ جان سکیں گے کہ ان کو اپنے اندر کس قسم کی تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں